Thursday, March 27, 2008
Thursday, February 28, 2008
Sunday, February 3, 2008
ھمارا مشن
ھمارا مشن
اب جبکہ یہ بات ثابت اور طے شدہ ھے کہ دنیا و عقبی کی بھلائی اور کامیابی کا تمام تر انحصار صرف اور صرف روح کی تقویت پر ھے، میں نے ایک بات بڑی شدت سے محسوس کی ھے کہ انسان اگرچہ کہ دین فطرت پر تخلیق کیا گیا ھے۔ نیکی کی رغبت اور برائی سے نفرت اس کے خمیر میں شامل ھے۔ لیکن ھم اکثر اس کے برعکس حالات دیکھتے ھیں کہ انسان نیکی کی رغبت ھوتے ھوئے بھی نیکی کرنے میں سستی اور تساھل سے کام لیتا ھے اور برائی سے بچنے کی شدید خواھش کے باوجود برائی کا ارتکاب کرگزرتا ھے۔ یہ صورت حال روح کی کمزوری اور نفس کے غلبے کی علامت ھے۔ جس شخص کی روح قوی اور تندرست ھوگی نماز، روزہ، حج، زكوة اور دیگر اوصاف حمیدہ اور کارھائے پسندیدہ اس کے لئے آسان ھو جاتے ھیں۔ اور جس شخص کی روح بیمار اور کمزور ھو اس کا نفس سرکش اور غالب ھوتا ھے۔ یہی کام اس کے لئے ناگوار، بھاری اور تکلیف دہ بن جاتے ھیں۔
لهذه جب تک انسان کی روح قوی اور تندرست نہیں ھوگی اسلامی شعائر و اقدار پر کما حقّہ عمل پیرا نہیں ھوسکتا۔ اور نه هی اس کے ثمرات سے مکمل طور پر بہرہ ور ھوسکتا ھے۔ یہی وجہ ھے کہ ھم اکثر دیکھتے ھیں ایک شخص نماز، روزہ وغیرہ اسلامی ارکان کی پابندی بھی کرتا ھے۔ لیکن ان کے ساتھ ساتھ گناہ اور برائی کے ارتکاب سے بھی محفوظ نھیں رہ سکتا۔ اس کی اصل وجہ یہی ھے کہ ایسا شخص روحانی طور پر بیمار ھے۔ اور جس طرح ایک مریض کے لئے مقوّی غذائیں بجائے فائدے کے نقصان دہ ثابت ھوتی ھیں اور جب تک مریض مکمل طور پر تندرست نہ ھو جائے مقوّی اور قوّت بخش غذائیں اس کے لئے نفع بخش نھیں ھوتیں۔ بعینہ اسلامی ارکان جو کہ دراصل روح کی تقویت کے لئے روح کی مقوّی غذا کی حیثیت رکھتے ھیں ان کے لئے روحانی بیماری میں اضافے کا باعث بن سکتے ھیں۔ جب تک انسان کے قلب اور روح تندرست نہ ھوں اس کے نماز، روزہ اور دیگر اعمال کا فائدہ غیر یقینی ھے۔
1۔ ذکر قلبی: روح کی بیماری دور کرنے کے لئے اور احکام شرعی کی مکمل بجا آوری اور ان کے فیوض و برکات اور ثمرات سے پوری طرح بہرہ ور ھونے کے لئے قلبی اصلاح کی ضرورت ھے۔ جب تک قلب درست نھیں ھوگا روح تندرست نھیں ھوسکتی۔ اور قلب کی درستی کے لئے ذکر کے بغیر کوئی چارہ نھیں۔ ذکر کی بے شمار اقسام موجود ھیں لیکن قلب کی اصلاح قلبی ذکر کے بغیر ممکن نھیں۔ ارشاد باری ھے۔ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (سورة الرعد۔ 28) 'یاد رکھو اللہ کے ذکر سے قلب کو اطمینان حاصل ھوتا ھے۔ یعنی قلب کی اصلاح اور نفس کی سرکشی کو دور کرکے نفس مطمئن حاصل کرنے کے لئے جس کی ضرورت ھے وہ قلبی ذکر کے سوا کوئی ذکر نھیں ھوسکتا۔ قرآن پاک میں یہ ارشاد باری کہ وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ (سورة الأعراف۔ 205) "اور اپنے رب کو یاد کرو زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے” ذکر قلبی کی تائید کرتا ھے۔
اسلامی ارکان کی بجا آوری میں کوتاھی اور سستی اور ان ارکان کے ثمرات سے پوری طرح مستفید نہ ھونے کی اصل وجہ ذکر قلبی سے دوگردانی ھے۔ اسی لئے حضرت مجدّد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ھیں کہ جب تک قلب ذاکر نہ ھوجائے، سوائے فرائض و سنّت مؤکّدہ کے نفلی عبادات سے گریز کیا جائے۔ یہ دیکھتے ھوئے کہ نماز، روزہ اور دیگر اسلامی ارکان و اقدار اوّل تو آج اکثر لوگوں کے لئے ان کی بجا آوری ھی مشکل ھے یا اگر کوئی یہ احکامات بجا لاتا ھے تو ان کے فیوض و برکات سے پوری طرح بہرہ مند نھیں ھوپاتا، میں نے اسے اپنا مشن قرار دیا ھے کہ قلبی ذکر سے قلب کی اصلاح کی جائے۔ جب قلبی ذکر سے قلب مطمئن ھوجاتا ھے اور اس کے عوارض ختم ھوجاتے ھیں تو نفس امّارگی کو چھوڑ کر نفس مطمئنّہ بن جاتا ھے۔ اللہ اس سے راضی ھوجاتا ھے اور وہ اللہ سے ھوجاتا ھے۔ تمام اسلامی ارکان و احکامات اس کے لئے سہل اور نفع بخش ھو جاتے ھیں اور برائیاں اس کے لئے روحانی کرب اور اذیّت کا سبب بن جاتی ھیں۔ اس لئے ان کا ارتکاب دشوار ھوجاتا ھے۔ اس کا جی چاہتا ھے کہ میں اسلامی ارکان کو بجا لاؤں اور ان سے محبّت اور انس پیدا ھو جاتا ھے۔
2۔ صحبت شیخ: ذکر قلبی کیسے اور کہاں سے حاصل کیا جائے؟ اس سلسلے میں ارشاد باری تعالی ھے فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (سورة النحل۔ 43 اور سورة الأنبياء۔ 7) "پس تم اھل ذکر سے سوال کرو جو کچھ تم نھیں جانتے” قلبی ذکر کی تحصیل و تکمیل شیخ کامل کی صحبت اور تربیت کے بغیر ممکن نھیں۔ کیونکہ قلب کی فوری اصلاح اور نفس کی سرکشی کا مکمل اور فوری علاج شیخ کامل کے سوا کچھ نھیں۔ شیخ کامل اپنی قوی روحانیت سے اپنے عقیدت مند کے قلب اور روح میں جلا پیدا کرتا ھے۔ اور اپنے شیخ کی صحبت میں رہتے ھوئے چونکہ اسے اپنے نفس کی حکمرانی کی بجائے اپنے شیخ کی مرضی کا تابع ھونا پڑتا ھے جس سے اس کا نفس سرکشی ختم کرتا جاتا ھے اور روح کی کمزوری اور بیماری کا باعث بننے والے عوامل دم توڑنے لگتے ھیں۔ ایک ماھر طبیب کی طرح شیخ کامل اپنے پیرو کے حالات کے مطابق اسے جو ذکر تجویز کرے وھی ذکر اس کی قلبی اور روحانی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ھے۔
3۔ درود پاک: ذکر قلبی کی طرف قلب کو راغب کرنے کے لئے اگر کثرت سے درود پاک پڑھا جائے تو انتہائی مفید و مؤثّر ھے۔ اس سے نہ صرف ذکر قلبی آسان ھو جائے گا بلکہ شریعت کے عوامل کو بجا لانا بھی آسان اور باعث فرحت و انبساط ھو جائے گا۔ اور انسان کا جی چاہتا ھے کہ میں قلبی ذکر سیکھوں۔ بہتر یہ ھے کہ شروع میں درود پاک کا ایک لاکھ ورد کیا جائے۔ اس سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجّہ اور شفقت حاصل ھوتی ھے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توجّہ نصیب ھوجائے تو پھر انسان کے لئے راہ راست پر چلنا سہل ھوجاتا ھے۔ درود پاک کی کثرت سے انسان کے گناہ اور خطائیں معاف کر دیئے جاتے ھیں اور قرب الہی میں بلند مقامات نصیب ھوتے ھیں۔ لہذہ ھمارا مشن اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے، اے پر عمل پیرا ھونے اور اس کے فیوض و برکات سے مکمل طور پر بہرہ ور ھونے کے لئے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ھے جس کے بغیر کوئی عمل اور کوئی نیکی قابل اعتبار نھیں۔ آئیے! کیوں نہ ھم وہ طریقہ اختیار کریں جس سے روح کو غلبہ اور تقویت دینے والے کام آسان ھوجائیں اور نفس اور نفسانی خواھشات مغلوب ھوکر رہ جائیں۔
شیخ سے ہمیں کیا چاہیئے
شیخ سے ہمیں کیا چاہیئے
ھر شخص اپنے زوال سے کنارہ کشی، اجتناب اور برائی سے بچنا چاہتا ھے اور اپنے عروج، عزّت اور وقار کا متمنّی ھوتا ھے۔ چونکہ مریض یہ نھیں جانتا کہ کونسی دوا میری بیماری کا علاج ھے اس لئے وہ کسی حکیم کے پاس جاتا ھے۔ اسی طرح جب آدمی کا نفس غالب، روح بیمار اور مغلوب ھو تو اس کے علاج کے لئے ھمیں کسی روحانی حکیم کے پاس جانا پڑتا ھے۔ قرآن پاک میں ارشاد ھے۔ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (سورة النحل۔ 43 اور سورة الأنبياء۔ 7) پس اھل ذکر کے پاس جاؤ جو کچھ تم نھیں جانتے حاصل کرو۔ اب جو باری تعالی نے اھل ذکر کی طرف جانے کا ارشاد فرمایا تو اس سے صاف ظاھر ھے کہ ذاکر سے ذکر حاصل کرنا مقصود ھے۔ یہی ذکر روحانیت کو تقویت اور دل کو اطمینان بخشنے والی چیز ھے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ھے أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (سورة الرعد۔ 28) 'خبردار اللہ کے ذکر سے قلب اطمینان میں آتا ھے یعنی قلب مطمئن ھو کر روج کو تقویت حاصل ھوجائے گی۔ وھی روحانیت جو کمزور ھو چکی تھی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ھے خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (سورة البقرة۔ 7) یعنی باری تعالی فرماتے ھیں کہ یہ ایمان لانے کے قابل ھی نہیں ھیں۔ ان کو کہنا یا نہ کہنا برابر ھے کیونکہ ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی ھے، ان کی سماعت پر مہر لگادی گئی ھے، ان کی بصارت پر مہر لگادی گئی ھے، ان پر موٹے پردے چڑھا دیئے گئے ھیں اور ان کے لئے سخت عذاب ھے۔
شان نزول: جن آدمیوں کے متعلق ارشاد گرامی ھے ابو جہل، ابو لہب وغیرہ۔ ھر آدمی جانتا ھے کہ ان کی آنکھ، کان، زبان سب صحیح حالت میں تھے۔ وہ سنتے بھی تھے، دیکھتے بھی تھے، باتیں بھی کرتے تھے۔ لیکن باری تعالی فرماتے ھیں کہ نہ سنتے ھیں، نہ دیکھتے ھیں تو صاف ظاھر ھوتا ھے کہ باطنی کان، آنکھ اور زبان اور ھے جو سر بمہر کردی گئی تھی۔ جن کے باطنی کان، آنکھ، زبان بند ھوجائیں ان کے متعلق باری تعالی فرماتے ھیں کہ وہ توحید و رسالت کا صحیح فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔ ذرا ھم بھی اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ کیا ھمارے کان، آنکھ اور زبان وغیرہ صحیح ھیں یا ھم بھی ان ھی کے ساتھ ھیں۔ اگر ھمارے یہ حواس کھلے نہیں ھیں تو دنیا میں ھر آدمی کا اوّلین فریضہ یہ ھے کہ ان کو کھولنے کی کوشش کرے۔ یہی ھمیں پیر سے درکار ھے تاکہ ھماری باطنی سماعت، بصارت اور گویائی وغیرہ صحیح ھوجائیں۔ اس سماعت اور بصارت کا ثبوت قرآن پاک اور احادیث میں موجود ھے جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے غلام آصف بن برخیا اپنی جگہ پر بیٹھے ھزاروں میلوں سے بلقیس کا تخت دیکھ سکتے ھیں اور اٹھا کر لا سکتے ھیں۔ یہی وہ بصارت ھے جو ھمیں پیر سے درکار ھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کھڑے ھوکر “یا ساریۃ الجبل” کہ کر ساریہ تک اپنی آواز پہنچا سکتے ھیں۔ یہ ھی گویائی ھمیں پیر سے درکار ھے۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے کئی میلوں سے چیونٹی کی آواز سن لی جو اپنے لشکر کو کہ رھی تھی يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ (سورة النمل۔ 18) "اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ھو جاؤ کیونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر آرھا ھے۔” حضرت سلیمان علیہ السلام چیونٹی کی آواز سن کر اس کی بات پر ہنس پڑے۔ بس یہی سماعت ھمیں پیر سے درکار ھے۔
اس کا علاج اھل ذکر نے کیا تو معلوم ھوا کہ منشاء ایزدی یہی ھے کہ اللہ والوں کے پاس جاکر ان سے اپنی روحانیت کی مقوّی دوا حاصل کرو۔ یہی شیخ سے حاصل کرنے کا نام پیری مریدی ھے۔
بجائے روحانی مقوّیات کے، روحانیت کو کمزور کرنے والی دوا دینے والا حکیم اگر کامل ھوسکتا ھے تو غیر شرع بزرگ سب کامل ھیں ورنہ روحانیت کو طاقت دینا ھی اصل فریضۂ شیخ ھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق باری تعالی نے ارشاد فرمایا كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آَيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ (سورة البقرة۔ 151)
یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم چار علوم سکھانے کے لئے دنیا میں تشریف لائے جس میں (1) تزکیۂ نفس (2) علم کتاب یعنی قرآن پاک (3) وَالْحِكْمَةَ یعنی علم لدنّی (4) جو کجھ تم نہیں جانتے۔ یہ ھی ورثہ پیران عظام کا ھے۔ ھر مرید کو اپنے پیر سے یہ چاروں علوم درکار ھیں۔ جن میں روحانیت کے مقوّیات یعنی (1) عبادت، ذکر وغیرہ (2) روحانیت کے اسرار (3) روحانیت کے مشاھدات (4) روحانیت کے عروج و ارادت وغیرہ یعنی روحانیت کو کامل کرنا شامل ھے۔
قلب: یہ ساری چیزیں چونکہ قلب اور روح سے ھی حاصل ھوتی ھیں۔قلب کا مقام جسم میں جتنا اھم اور ضروری ھے اسی طرح تمام عبادات اور ذکر میں ذکر قلبی ضروری ھے۔
انسان کے جسم میں قلب کی اھمیت: انسان کی زندگی کا انحصار قلب پر ھے۔ انسان کے دوسرے اعضاء ایک ایک کر کے اگر نہ بھی ھوں یا بیمار ھوں تو انسان کی زندگی ممکنات میں سے ھے۔ لیکن اگر قلب نہ ھو باقی تمام جسم صحیح سلامت ھو تو آدمی زندہ نھیں رہ سکتا۔ زندگی کا دارومدار صرف قلب پر ھے۔ قلب ایک ایسی چیز ھے جب سنور جاتا ھے تو سارا بدن سنور جاتا ھے، جب بگڑ جاتا ھے تو سارا بدن بگڑ جاتا ھے۔ قلب کا سنورنا پرھیزگاری، حق تعالی پر توکّل، اس کی توحید اور اعمال میں اخلاص پیدا کرنے سے ھے۔ قلب گویا پرندہ ھے بدن کے پنجرہ میں، گویا موتی ھے ڈبّے میں، گویا مال ھے صندوق میں۔ پس اعتبار پرندہ کا ھے پنجرہ کا نھیں، اعتبار موتی کا ھے ڈبّے کا نھیں اور اعتبار مال کا ھے صندوق کا نھیں۔
اے اللہ! ھمارے اعضاء کو اپنی اطاعت اور قلوب کو اپنی معرفت میں مشغول فرما اور مدّت العمر ساری رات اور سارے دن اسی میں مشغول رکھ اور ھم کو شامل فرما نیکوکار اسلاف کے ساتھ اور ھم کو نصیب فرما جو ان کو نصیب فرمایا تھا اور ھمارا ھوجا جیسے ان کا ھو گیا تھا!
روح: یقین کے پاؤں، ایمان کا کامل ھونا، یقین کا قوی ھونا، صدق کے بازؤں پر پر لگ جانا اور قلب کی آنکھیں کھل جانا یہ تب ھی ھوتا ھے جب روح پوری قوّت میں آجاتی ھے۔ جب آدمی یہ سمجھ لیتا ھے کہ آدمی کا دارومدار صرف روح سے ھی ھے۔ پہلے روح ھی تھا۔ جب جسم میں روح مقیّد نہ تھا تو نہ اس کا باپ نہ ماں، نہ بیٹا نہ بہن، نہ بیوی نہ کوئی رشتہ دار۔ نہ ھی کسی کا بیٹا، بھائی اور رشتہ دار تھا۔ یہ رشتہ داری وغیرہ سب جسم سے وابستہ ھے۔ جب جسم کا لباس اتر جائے گا تو ویسا ھی ھو جائے گا، کوئی رشتہ دار وغیرہ نہ رھے گا۔ روح اپنے رب کی طرف لوٹے گی۔ اگر قوی ھے تو رب تک پہنچے گی، اگر کمزور ھے تو سزا کی مستحق ھوگی۔
دنیا میں جس نے روح کو قوی کیا اس نے منشاء ایزدی حاصل کیا اور جس نے روح کو کمزور اور نفس کو قوی کیا اس نے خدا کے غصّے کو دعوت دی اور اپنا ٹھکانہ جہنّم بنایا۔
اے اللہ تعالی! ھماری روحوں کو تقویت دے تاکہ تیری جناب تک رسائی حاصل کرسکیں اور جن لوگوں پر تو نے انعام کیا ان کے راستے پر چلا اور دنیا اور آخرت کی تکالیف ھم سے دور فرما۔ صدقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم۔ اپنی محبت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں ایسا محو کر کہ ما سوا تیرے کسی کی خبر نہ رھے! آمین، ثمّ آمین!
احکام خداوندی اور روحانیت
احکام خداوندی اور روحانیت
آدمی کا انحصار دو چیزوں پر ھے۔ (1)جسم عنصری (2) روح۔ اب دونوں کی تقویت ان کی مناسب غذا پر منحصر ھے۔ جسم عنصری کو عناصر اربعہ کی پیداوار ھی تقویت دے سکتی ھے۔ جس طرح ھم گندم، پھل یا مرغّن غذاؤں سے جسم کو تندرست و توانا کرتے ھیں تو وہ مضبوط ھو جاتا ھے۔ اسی طرح روحانی جسم یا روحانیت کی غذا نورانیت ھے۔ جس طرح جسم عنصری کی غذا اس کے اصل عناصر یعنی عناصر اربعہ کی پیداوار ھے اس طرح روح کی غذا اس کے اصل یعنی اللہ تعالی کے احکام کی بجا آوری میں ھے۔ جیسا کہ باری تعالی نے فرمایا۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ (سورة البقرة۔ 21) 'اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا'۔ گویا جس کی صرف سے روح ھے اس کی طرف سے اس کی غذا عبادت یا احکام خداوندی کی بجا آوری ھے جو کہ نور ھیں۔ وھی روج کو تقویت دیتے ھیں۔ عبادت یا ذکر جس سے روحانیت قوی ھوتی ھے یہ سب احکام خداوندی سے ھے۔ اسی سے پرھیزگاری اور ھدایت نصیب ھوتی ھے جو کہ روح کو تقویت دے کر روح کی اصل یعنی باری تعالی کی طرف لے جاتی ھے جیسا کہ باری تعالی نے فرمایا۔ مَا آَتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا (سورة الحشر۔ 7) 'جو چیزیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم لے آئیں ان کو پکڑ لو اور جن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم منع فرمائیں ان کو چھوڑ دو۔' اس سے روح طاقتور بن سکے گی اور اپنے اصل یعنی اللہ تعالی کی طرف لوٹ سکے گی اور خدا تک رسائی حاصل کر سکے گی۔ ان ھی احکام خداوندی کو جن کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم تاکید فرماتے ھیں، شریعت کہتے ھیں۔ اور یہی شریعت خدا تک پہچانے میں معاون ھے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ھیں کہ شریعت یا احکام خداوندی روحانیت سے الگ ھیں تو گویا وہ روحانیت کو کمزور کر رھے ھیں جس کے نتیجے میں نفس تقویت پکڑ جائے گا۔ جب نفس غالب آجائے گا، روح مغلوب ھو جائے گی تو نفس پرستی ھی نفس پرستی رہ جائے گی۔ پس ثابت ھوا کہ شریعت یا احکام خداوندی اور روحانیت لازم و ملزوم ھیں۔ ان کا جدا کرنا باعث ھلاکت اور گمراھی ھے۔
روحانیت کی غذا اللہ تعالی کے اوامر ھیں اور انہیں ھی شریعت کہتے ھیں۔ پس ثابت ھوا کہ شریعت روحانیت کی غذا ھے۔ جس نے شریعت اختیار کی، روحانیت کو قوی کیا۔ جس نے شریعت سے منہ موڑا، روحانیت کو کمزور کیا اور اپنے پروردگار سے منہ موڑا۔ تو گویا روحانیت کی اصل شریعت ھے۔
آدمی کے عروج و زوال کا انحصار کس چیز پر ھے
آدمی کے عروج و زوال کا انحصار کس چیز پر ھے
ھر انسان نفس اور روح سے مرکّب ھے۔ جب نفس غالب آتا ھے تو نفس کے لوازمات اس پر سوار ھوجاتے ھیں۔ یعنی تمام نفسانی خواھشات کا ارتکاب عمل میں لایا جاتا ھے۔ نفس کی خواھشات سے ھی بغض، کینہ، حسد، بے حیائی، اسلام سے بے رغبتی، لڑائی، فساد، والدین کی بے ادبی، اسلام اور اس کے شعائر سے نفرت یا بے رغبتی پیدا ھوتی ھے۔ جب نفس سوار ھو جاتا ھے تو شہوت پرستی عام ھوجاتی ھے۔ آپ نے سنا ھوگا کہ جب شہوت یا غصّہ زور میں آتا ھے تو آدمی کا دماغ مفلوج ھو جاتا ھے۔ جب دماغ ھی مفلوج ھو گیا تو اس کی سوچ بچار، فہم و ادراک سب غلط راستے پر چل پڑتے ھیں۔ تو جے نے بھی نفس پرستی کی اس نے روحانیت کو کمزور کیا، اپنے اصل سے دور ھوا، اپنے آپ پر ظلم کیا، دوزخ کا ایندھن بنا اور اپنے آپ کو ناکارہ بنا لیا۔ باری تعالی اس پر بے روزگاری، بے عزّتی، بے حیائی، بیماری اور طرح طرح کے مصائب مسلّط کردیتے ھیں۔ گویا نفس کا غلبہ اور روحانیت کی کمزوری اس کے زوال کا سبب ھے۔ اب دوسرا جزو روح ھے۔ روح کو روح کی غذا یعنی عبادت، ذکر، نماز، روزہ، حج، زکوة وغیرہ سے تقویت حاصل ھوتی ھے۔ جب نفس مغلوب ھوا تو تمام نفسانی خواھشات اور حرکات سے بچ نکلا۔ صرف روح کی غذا باقی رہ گئی، روح قوی ھوتی چلی گئی اور اپنے اصل کی طرف لوٹنا شروع کیا۔ پاکیزگی، حیاداری، صدق و صفا اور ادب اس کا شعار بنا۔ اسلامی شعائر کو تقویت حاصل ھوئی جس کے سبب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راضی ھوئے۔ روحانیت کامل ھوئی، روحانیت اپنے اصل یعنی اللہ تعالی کی طرف لوٹی۔ اس کی طرف مدد حاصل ھوئی۔ بلند درجات ملے۔ اس کے زوال کا خاتمہ ھوا اور عروج نصیب ھوا۔ اللہ تعالی اس سے محبّت کرنے لگے اس طرح اس کو تمام دنیا و عقبی میں سرفرازی ھوئی۔ جب روح خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مستغرق ھوئی تو ان کے تاثر سے تمام بیماریوں سے شفا اور عروج شروع ھو جاتا ھے۔ تو معلوم ھوا کہ روح کی تقویت ھی عروج کا سبب ھے۔ روح کی کمزوری زوال کا باعث ھے۔ گویا آدمی کے عروج و زوال کا انحصار روحانیت پر ھے۔ روح کی تقویت سے دل قوی ھو جاتا ھے، دماغ قوی ھو جاتا ھے۔ جس سے اس کی سوچ بچار، فہم و ادراک قوی اور صحیح ھو جاتا ھے۔ اب جب کہ اس کا فہم و ادراک صحیح ھے تو وہ زوال کی طرف نہیں جائے گا بلکہ اس کا عروج لازم و ملزوم ھے۔ ساتھ چونکہ روحانیت وابستہ ھے اس لئے وہ اللہ تعالی کی طرف لائے گی اور روحانیت کے کامل ھونے کی وجہ سے عروج اس کا مقدّر بن جائے گا۔ گویا نفس کا غلبہ نیچے زوال کی طرف لےجائے گا اور روح کا غلبہ یا روحانیت اپنے اصل یعنی اللہ تعالی کی طرف لےجائے گا اور عروج اس کا مقدّر بن جاتا ھے۔ اس لئے عروج و زوال کا انحصار روج کی تقویت یا کمزوری پر ھے۔
دنیا کا رزق اور عزت کس چیز میں ھے؟
دنیا کا رزق اور عزت کس چیز میں ھے؟
جب مخلوق میں سے کوئی آدمی اپنے خالق حقیقی کی طرف رغبت کرتا ھے اور اس کے نزدیک ھونا چاھتا ھے اس کی محبت میں سرشار ھوجاتا ھے اور اسی کو اپنا روزی دھندہ سمجھتا ھے۔ جب اس نے اپنے روزی دھندہ کو پھچان لیا تو باری تعالی اس کو بے حساب رزق عطا فرماتا ھے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (سورة البقرة212) جب انسان اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رغبت اور تعلق قائم کرتا ھے، دنیاوی نجاست چھوڑ کر باکیزگی اختیار کرتا ھے اور اپنی روح کو عبادت سے تقویت دیتا ھے یا ذکر سے قوی کرتا ھے تو روح اپنی اصل یعنی اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتی ھے۔ اللہ تعالی حدیث قدسی میں فرماتا ھے:"جو میری طرف ایک بالشت آتا ھے میں اس کی طرف ایک قدم آتا ھوں، جو میری طرف چل کو آتا ھے میں دوڑ کر آتا ھوں، جو دوڑ کر آتا ھے میں اسے خود لینے آتا ھوں اور اسے اپنا محبوب و مقرب بنالیتا ھوں" جو میرا بن جاتا ھے میں اس کا ھوجاتا ھوں، میری عزت اس کی عزت یا اس کی عزت میری ھوجاتی ھے۔ اسلئے باری تعالی فرماتے ھیں: وَتُعِز مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ (سورة آل عمران-26) یعنی جس کو میں چاھتا ھوں عزت دیتا ھوں جسے چاھتا ھوں ذلت دیتا ھوں۔ وَاللَّهُ يَخْتَص بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ (سورة البقرة-105)
اللہ تعالی جس کو اپنی رحمت سے مخصوص کرتے ہیں یا نوازتے ہیں اس پر خزانے کھول دیئے جاتے ہیں، رزق بے حساب کردیا جاتا ہے، عزت دوبالا کردی جاتی ہے، وقار بڑھا دیا جاتا ہے۔ تمام دنیا اس کی عاشق ہوجاتی ہے، اس کی نام لیوا بن جاتی ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے، 'جو میرا بن جاتا ہے میں آسمانوں اور زمینوں پر اور عالم ارواح میں منادی کروادیتا ھوں کہ میں نے اس سے محبت کی ھے۔ اے عالم ارواح کے لوگو، اے دنیا والو، اے فرشتو! تم سب اس کو محبوب بناؤ۔'
کیوں کہ اس نے اللہ تعالی کی عبادت سے اپنی روح کو تقویت دی۔اس نے روح کی غذائیں حاصل کرکے اپنی روح کو منور کیا۔ جب اس کی روحانیت بڑھ گئی اور نفس مغلوب ھو گیا۔ نفس امّارہ سے لوّامہ اور لوّامہ سے مطمئنّہ ھو گیا، وہ اللہ سے راضی اور اللہ اس سے راضی ھو گیا اور روحانیت کامل ھو گئی۔ اور دنیا کا رزق و عزت اس کے قدموں میں خود بخود آتا ھے جو کہ منشاء ایزدی ھے۔ یہ چونکہ اللہ تعالی کی رضا سے ھے۔ اب اگر یہ دیکھا جائے کہ صرف رزق تو کافروں کے پاس بھی ھے تو یہ باری تعالی کی فیّاضی ھے کہ اپنے منکر کو جس کا آخرت میں کچھ بھی حصّہ نہیں، دنیا کی چار روزہ زندگی میں اس کو رزق دیدیا۔ یہ کافروں اور منکروں کے لئے باعث رحمت نھیں بلکہ باعث زحمت ھے کیونکہ وہ اللہ تعالی کی طرف رغبت کرنے سے محروم ھے۔ اللہ تعالی کی فیّاضی سے جب کافر و منکر بھی استفادہ کرتے ھیں تو اس کے خزانہ غیب سے کس کے نام لیوا کب محروم رہ سکتے ھیں؟ جیسا کہ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ھیں:
دوستاں را کجا کنی محروم
تو کہ با دشمناں نظر داری
کسی کی فیّاضی قانون شکنی نہیں ھوا کرتی کیونکہ صحیح الفطرت قوی روحانیت اور محبوبیت والا شخص جس پر باری تعالی اپنے خزانے کھول دیتے ھیں، ایک طرف اس کا رزق و عزّت جو کہ اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق ھے دوسری طرف مغضوب الیہ جس پر باری تعالی کا غضب ھے اور ھمیشہ ھمیشہ کے لئے جس کو اصل رزق، عزّت اور جنّت سے محروم کر دیا گیا۔ چند دن کی فیّاضی ھمیشہ کی راحت اور عزّت کے برابر نہیں ھو سکتی تو اصل رزق اور عزّت جو ھے وہ روحانیت والے کا ھے۔ بھلا یہ کس طرح ممکن ھے کہ ایک مجرم جس نے ساری عمر قید میں گزارنا ھے اس کی ایک روزہ عیش و عشرت کی زندگی کو اس شخص کے برابر قرار دے دیا جائے جو روحانیت کی تقویت سے جو کہ منشائے ایزدی ھے اللہ کے رزق و فضل کا مستحق بنتا ھے اور تا ابد رزق و عزّت حاصل کرتا ھے۔ کافر اس مجرم کی مانند ھے جس کو ایک دن بعد پھانسی ھوجائے گی اور مومن کی مثال ایک سدا بہار درخت کی ھے جو روحانیت کو تقویت دے کر مقبول بارگاہ الہی ھو کر دونوں جہانوں میں اس کی نعمتوں سے بہرہ ور ھوتا ھے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)








